بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کوئی بھی کیمرہ آج عراق میں رونما ہونے والے مناظر کا مافی الضمیر مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتا۔
ٹیلی وژن کا ہر فریم انسانوں کے سمندر کا صرف ایک گوشہ دکھا رہا تھا جو صبح کی پہلی گھڑیوں سے تشییع کے راستوں پر جمع ہوئے تھے۔ ہجوم اتنا عظیم تھا کہ بہت سے عراقی ذرائع ابلاغ نے ان مراسمات کے "عدیم المثال" ہونے کی بات کی، اور موجود شہریوں میں سے بعض نے اسے دوسرے جنازوں سے مختلف قرار دیا جو ان کی تاریخی یادداشت میں محفوظ ہیں۔

اس ہجوم میں عراقی ہوسے (مقامی اشعار) سب سے زیادہ سنائی دے رہے تھے؛ ایسی نظمیں جو عراق کی ثقافت میں سوگ کے علاوہ سماجی اور شناختی کارکردگی بھی رکھتی ہیں، اور اہم تاریخی مواقع پر دہرائے جاتے ہیں۔
آج بھی ان ہی ہوسوں نے ان مراسمات کے بارے میں عوامی بیانئے کو عیاں کر دیا۔
ایک نعرہ یہ تھا:
"بس الشيعة تطالب بي الدم ما يبرد"
یعنی شیعہ خون کا مطالبہ کرتے ہیں اور چین سے نہیں بیٹھتے۔
دوسرے نعرے میں پڑھ رہے تھے:
"ما ضم روحه يا حسین ابنك"
جس کا ترجمہ یوں تھا: "اے امام حسین(ع)، آپ کے بیٹے نے اپنے آپ کو چھپا کر نہیں رکھا۔"
اور پھر اس مصرع کو دہراتے تھے:
"مايبرد دم العيالة ما يبرد"
یعنی بہادروں کا خون ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔"
نعرہ "حيف اتموت العیالة" بھی بارہا ہجوم میں سنا گیا؛ ایک ایسا جملہ جو عراقی بولی میں بہادروں کے کھو جانے پر افسوس کا اظہار ہے۔
ہوسوں کے ایک اور حصے میں، سیاسی مضامین کے نعرے بھی لگائے گئے، جیسے:
"خيبر أدبه بالستيك"
جو میزائل "خیبر" کی طرف اشارہ ہے اور نعرہ لگانے والے اسے فوجی طاقت کی علامت کے طور پر بیان کر رہے تھے۔
اور یہ جملہ: "ابنك محاصِر أمریكة وقاطع عليه الدرب"
یہ نعرہ جناب ابا عبداللہ الحسین سے خطاب ہے کہ اے امام حسین(ع)، آپ کے بیٹے (رہبرِ شہید) نے امریکہ کو محاصرے میں لیا ہے اور اس کے اوپر راستے بند کر دیئے ہیں۔
اور یہ بھی:
"الما يحضر تشييع السيد ذیل وخادم اسرائيل"
یعنی جو سید کی تشییع میں حاضر نہ ہو وہ اسرائیل کا تابع اور خدمتگار ہے۔
یہ وہ نعرے تھے جنہیں ہجوم دہرا رہا تھا اور جو شرکاء کے سیاسی نقطہ نظر کی عکاسی کر رہے تھے۔
سماجیاتی نقطہ نظر سے، ان ہوسوں کا اعادہ محض سوگ کی ایک رسم نہیں تھا۔ عراق کی قبائلی ثقافت میں، ہوسہ اجتماعی یادداشت کی منتقلی، یکجہتی کا اعلان اور سماجی شناخت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
اسی وجہ سے، نعرے صرف چند منقبت خوانوں یا مقررین کی زبان سے نہیں سنے جا رہے تھے، بلکہ ہزاروں افراد انہیں بیک وقت دہرا رہے تھے؛ ایسا دہرانا جس نے ان اشعار کو مرثیے سے بھی بالاتر کردار عطا کیا۔
بصرہ سے تعلق رکھنے والے ایک عراقی زائر نے کہا: ہم آج صرف وداع کے لئے نہیں آئے؛ ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ جن سے ہم نے اثر لیا ہے اور سبق لیا ہے، ان کا راستہ جاری رہے گا۔
نجف کے ایک رہائشی نے کہا: یہ مظاہرہ صرف عراقی عوام کا حضور نہیں ہے؛ جو کوئی خود کو اس راستے سے منسلک سمجھتا ہے، وہ آج کے ان مراسمات حصہ ہے۔
ہجوم کے درمیان، عوام کی زبان سے بارہا یہ جملہ سنا گیا کہ "کوئی کیمرہ اس ہجوم کی عظمت کی عکاسی نہیں کر سکتا۔
حقیقت بھی یہی تھی؛ ٹیلی ویژن کے فریمز صرف ہجوم سے بھرے راستوں کا ایک حصہ ریکارڈ کر رہے تھے، جبکہ عزاداروں کا سیلاب مراسمات کے مقام تک جانے والی گلیوں میں فریموں میں نظر آنے والے منظر سے کہیں وسیع تر تصویر پیش کر رہا تھا۔
جو کچھ آج عراق میں ہؤا، مختلف سیاسی اور مذہبی تشریحات و تاثرات سے قطع نظر، اس سے عیاں ہؤا کہ بہت سے شرکاء کے نزدیک یہ مراسمات محض ایک تشییع کے زمرے میں نہيں آتے تھے، بلکہ ایسا واقعہ تھا جس نے سوگ، شناخت، اجتماعی یادداشت اور حالیہ برسوں کی تبدیلیوں کے بارے میں ان کے بیانئے کو مقامی ہوسوں اور نعروں کی شکل میں نمایاں کر دیا؛ وہ نعرے جو ہجوم کے دل سے اٹھے اور اس دن کے سماجی بیانئے کا حصہ بن گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: عاطفہ اسماعیلی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ